آج کی تاریخ - اک خوبصورت تاریخ - جو آج کے بعد پھر کبہی نہیں آئے گی
ابہی ابہی شام میں کچھ دستوں کے ساتھ محفل سجی تھی کہ اک منچلے دوست عامر کمال نے عزیز میاں قوال کی ایک قوالی سننے کی فرماہش کر ڈالی اور بھلا ہو محترم ڈاکٹر اقبال کا کے انھوں نے بھی اس کی حمایت کی- اب بھلا یاروں کی فرماہش ہو اور میں انکار کر دوں یہ ممکن نہیں تھا ، سو عزیز میاں کی قوالی چلائ گئ - قوالی ساری ہی اپنی جگہ بہترین تھی مگر ایک مقام پر تو موصوف نے ھمارا دل ہی لوٹ لیا - فرماتے ہیں کے ، “ایک نظر، چار کام” ۔۔۔۔۔ “ایک نظر، چار کام” —-
- نظر جھکی تو حیاء بن گئ
- نظر اٹھی تو دعا بن گئ
- نظر ترچھی کی توادا بن گئ
- نظر پھیر لی توقضا بن گئ
بس جناب یہ سننا تھا کی یاران ِ محفل جھوم ُاٹھے - ہم نے بھی خوب داد دی ، واہ واہ کی - مگر اسی دوران اک عجب خیال میرے دل میں اترا اور میں بے ساختہ مسکرا اُٹھا ، اور وہ خیال یہ تھا کہ عزیز میاں کی تشریح کے حساب سے ایک نظرجو چار کام کر رہی ہے ، کچھ یہ ہی سلوک پاکستان کی موجودہ حکومت اور حکمران بہی کیے جا رہے ہیں اور سادہ عوام کبھی اس کو دعا سمجھتی ہے تو کبھی اس کو ادا مان کر سر تسلیم ِ خم کرتی ہے اور حقیقت میں وہ ھوتی قضا ھے - ھاے ری قسمت ۔۔۔۔۔۔۔ !!
اج ایک اخبار پڑھتے ہوے اک بڑی دلچسپ اور حوصصلہ افزاء خبر نظر سے گزری - یہ خبر کراچی جیل اور اس کے ایک ھمدرد سپرنٹنڈنٹ کے بارے میں تھی - سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین سزا اور مار پر یقین نہیں رکھتے بلکہ پیار سے قیدیوں کو معاشرے کا فعال شہری بنانے کے حق میں ھیں- اس سلسلے میں انھوں نے کچھ دوستوں کے تعاون سے کراچی جیل کے قیدیوں کے ہاتھوں میں مصوری کے برش اور رنگ تھما دیے- ان کے لیے باقاہدہ اک استاد کا بہی بندوبست کیا - قیدہوں نے اس کا کافی مثبت اثر لیتے ہوہے دیڑھ سال میں ھی اک شاندار نماہش کا انتظام کیا، اور 7 جون کو کراچی سنٹرل جیل میں آرٹ میلا لگایا- اس آرٹ میلا میں کراچی سنٹرل جیل کے فنکار قیدیوں نے قیدیوں کے لباس نہیں بلکہ شلوار قمیض اور شرٹ پتلون پہنے - اس آرٹ میلا میں ثریاء بجیا ، آہی جی سندھ اور فرانسیسی قونصل خانے کے ناظم نے بھی شرکت کی- اس آرٹ میلا میں جیل انتظامیہ کا نعرہ / موٹو تھا “ہم رویے بدلتے ہیں”، جبکہ قیدیوں کا نعرہ / موٹو تھا “ہم بہترین ہیں اور اچھے انسان بن سکتے ہیں”
اتنے سارے برسوں میں شاہد یہ وہ پہلی مثبت خبر تھی جس کو پڑھ کر دل کو خوشی ، اطمینان اور خوشگوار حیرت ہوہی اور سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین کے لیے دل سے دعا نکلی - ایسے ہی نیک اور اچھے انسانوں کی وجھ سے یہ نظام ِ دنیا چل رھا ہے -
جلد ھی آپ کی خدمت میں اپنا کلام پیش کروں گا - نعمان علی
کہتے ھہں کے انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رھتا ، سچ کہتے ھہں !!! موجودہ دور میں شاہد ہی کوہی ایسی چیز ھے جس کے بارے میں حضرتِ انسان شکوہ شکایت کرتا نظر نہ آیے - کوہی مہنگاہی کا رونا رو رھا ھے تو کوہی سیاسی حالات پر پریشان ہے ، کسی کو تنگہیِِِ ِ رزق کا گلہ ہے تو دوسرا اولاد کی نافرمانی کا غم سینے سے لگاہے بیھٹا ہے -
اہل دانش اس صورت ِ حال میں اک بات سوچنے پر تو ضرور مجبور ھوتا ہے ، کہ آخر ان تمام باتوں کی وجہ کیا ھے؟؟
میں نے کہیں اک بہت ہی اچہھی بات پڑہی جو میں آپ لوگوں کے گوش گزار کرنا چاھوں گا ، “کہتےھیں کہ انسان حالات کو دیکھ کر اعمال کرتا ہے اور اللھ جی اعمال کو دیکھ کر حالات پیدا کرتے ہیں”۔ یہ بات ھم سب کے لیے ایک لمحھ ِ فکریہ بہی ہے اور اس بات میں ھمارے سارے سوالات کے جوابات بہی ھیں اور تمام پریشانییوں کا حل بھی !
پاکستان ، ہمارا دیس، ہماری پناہ گاہ ، ہماری ماں ۔۔۔ جس کے لیے دی گی قربانیوں کا کوہی حساب نہیں۔ اگر ہم ماضی کے دریچوں کے اُس پار جھانکیں اور پاکستان کے وجود کی بنیاد پر نظرِ دوہراہں اور پھر پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکہں تو دماغ الجھتا چلا جاتا ھے۔ اہل علم و نظر ھر دم اک عجیب سی بیچینی سے دوچار ہیں۔ ہر پاکستانی کے دل و دماغ پر ایک ہی سوال چھایا ہوا ہے کہ اخر یہ سب کیا ھو راہا ھے؟؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ھے کہ یہ سب کیوں ھو راہا ھے؟؟
میرا یہ بلاگ لکھنے کا ایک مقصد یہ بہی ھے کہ موجودہ پاکستانی حالات کے پہش ِ نظر نوجوان نسل کی سوچ کا جاہزہ بھی لیا جاھے۔ پاکستان کی نوجوان نسل میری راے کے مطابق ایک حساس نسل ہے جو تمام معاملات کو بہت گہری نظر سے دہکھتی ہے۔ نوجوان نسل پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کافی پرہشان ہے۔ اس موقعہ پر میں یہ بات واضھ کرتا چلوں کہ نوجوان نسل پریشان ضرور ھے مگر ماہوس نہں ھے!! پاکستان کے غیر استحکامی سیاسی حالات، دہشتگردی، مہنگاہی کا سیلاب، اہی ایس ایی کا معاملہ، گیلانی صاحب کا دورہ ِ امریکہ، پاک افغان تعالوقات، سوات اور ایجینسیوں کے حالات۔۔۔۔۔۔ یہ سب مل کر ایک نوجوان ذھن و دماغ کو بہت متاثر کرتا ہے۔ بہت سے خیالات جنم لہتے ہے ، بہت سے سوال پریشان کرتے ہیں !!!! مگر یہاں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ، ان حالات میں بحثیت ِ حساس قوم کہ، ہمارا کیا فرض ہے؟ سوچنا یہ ھے کہ ھر پاکستانی اپنی اھلیت کے مطابق کیا کر سکتا ہے کہ جو پاکستان کے مفاد میں ھو، اس سے پاکستان کو فاہدہ ھو۔
کیا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک انقلاب کی ضرورت ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ھے جس کا جواب میں ھر اہل ِ دل پاکستانی سے چاھوں گا !!!